پاک گلیکسی

انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی خبریں

صفحہ اول » بلاگ » بورڈ و یونیورسٹی امتحانات کے بعد ٹیسٹ سیاپا

بورڈ و یونیورسٹی امتحانات کے بعد ٹیسٹ سیاپا



مصنف: فخرنوید زمرہ: بلاگ

پاکستان میں آب پاشی کا نظا م د نیا کا سب سے منفرد اور اچھا نظام پڑھا کرتے تھے۔ آجکل وہ حالات بھی نہیں کہ ہم وثوق سے یہ بھی کہہ سکیں کے ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے ہمارا آب پاشی کا نظام بہترین نظام ہے۔ ہم نے تو بہترین نظام کو بھی تباہ و برباد کر دیا ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام تو کبھی بہترین اور مثالی رہا ہی نہیں ہے روز بروز زوال پذیر ہو تا یہ تعلیمی نظام ہر سال مختلف تجربات کی بھینٹ چڑھتا ہے۔ کبھی اس میں یورپی اور کبھی امریکی تو کبھی دیسی نظام کا تڑکا لگا کر چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ڈھائی پات وہی۔

education system

پاکستان کے موجودہ نظام تعلیم میں بھی درجنوں قسم کے لیول ہیں۔ ہر سٹیٹس کے لوگوں کے لئے الگ تعلیمی نظام ہے۔ اسی طرح ہر صوبے کے لئے بھی مختلف تعلیمی نظام اور مختلف تدریسی مواد ہے۔پنجاب کا تدریسی نظام اور تعلیمی نظام دیگر صوبوں کی نسبت کافی حد تک جدید تقاضوں کے برابر ہے۔ لیکن یہاں بھی کچھ ایسی چیزیں شامل کر دی گئی ہیں کہ حیرانی ہوتی ہے اس نظام تعلیم پر کہ یہ سب کیا ہے؟ پہلی جماعت سے پانچویں تک ہم صرف سکول کے امتحانات میں شامل ہو کر اگلی کلاس میں ترقی پا لیتے تھے۔ کچھ جگہ پر تو پانوین کا بھی سرکاری امتحان دے کر اگلی کلاس میں ترقی ملتی تھی۔ لیکن زیادہ تر پرائیویٹ سکولوں میں ایسا کوئی نظام نہیں۔ جب حکومت نے مڈل کلاس کا امتحان لازمی قرار دیا کو وہ جو بچہ پاس کرے گا وہی نہم کلاس میں جا سکے گا تو یہ پرائیویٹ سکولوں کو قبول نہ ہوا اور وہ بھی ختم ہو گیا۔ اس کے بعد میٹرک کا امتحانی نظام آتا جس میں نہم اور دہم کا اب الگ الگ امتحان لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جو بچہ پاس ہوتا ہے وہ اگلی کلاس یعنی انٹرمیڈیٹ میں ترقی پاتا ہے۔ اور یہ ترقی صرف میٹرک کا امتحان پاس کرنے پر نہیں ملتی کیونکہ میٹرک کے امتحان پر انہیں یقین ہی نہیں ہوتا ہے۔ کہ بورڈ والوں نے نا جانے کیا چول ماری ہو۔ اس لئے پھر سے داخلہ ٹیسٹ کے نام پر بچوں کی قابلیت کو پرکھا جاتا ہے۔ جس میں کئی معصوم دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ پھر اسی طرح بیچلر ڈگری اور ماسٹر ڈگری سے لے کر پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لئے کئی امتحانات پاس کرنے کے بعد بھی یونیورسٹیوں کے امتحانی سسٹم کو رد کرتے ہوئے خود وہی یونیورسٹیاں نیٹ این اے ٹی ٹیسٹ کے نام پر طلبا سے نیا رزلٹ مانگ لیتی ہیں۔ اوہ اللہ کے بندو اگر آپ کو اپنے امتحانی طریقہ کار پر یقین نہیں ہے تو اس میں تبدیلی لاو اور اسے بہتر کرو۔ بجائے اس کے بچوں اور بوڑھوں سے بار بار مختلف امتحانات لو جس میں انہیں قابلیت دکھانی پڑے ۔ GAT, Adidas Homme nike air max 95 donna nike air max 2017 goedkoop nike air max flyknit Femme Nike Jordan 11 Future asics gel kinsei hombre New Balance buty damskie Maglia James Harden NAT,

فخرنوید

قابلیت: ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن بلاگز: پاک گلیکسی اردو بلاگhttp://urdu.pakgalaxy.com ماس کمیونیکیشن انگلش بلاگ http://mass.pakgalaxy.com ای میل:fakhar.naveed@gmail.com

6 Responses so far.

  1. حضور ایک وقت اسی ملک میں تھا جب سکول اور کالج میں داخلے کیلئے صرف پچھلے سکول یا کالج کی سند مانگی جاتی تھی اور اس کی ٹائپ کی ہوئی نقل اپنے پاس رکھ لیتے تھے ۔ مگر عوام کو ترقی چاہیئے تھی تو اُنہوں نے ایک ترقی پسند کو اپنا رہنما بنایا ۔ اُس راہنما نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا ”یہ تنگ مُوری کی پتلون (امریکی) جو میں نے پہنی ہوئی ہے یہ ترقی کا نشان ہے“۔ اس نے گدی جاتے دیکھی تو آدھا پاکستان توڑنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور آدھے پاکستان کو گریٹر پاکستان کہہ کے گدی پر بیٹھ گیا ۔ تعلیمی نظام سے لے کر ہر اُس نظام تک جو تھوڑا بہت چل رہا تھا ملیامیٹ کیا ۔ ہر جگہ اُسے جئے جئے کرنے والوں کو بٹھا دیا ۔ پھر تختہ دار پر چڑھ گیا مگر آج بھی اس کے پرستار ”کل بھی زندہ تھا آج بھی زندہ ہے کے نعرے لگاتے ہیں“۔ اُس کے بعد آنے والے صورتِ حال کو بہتر بنانے کی بجائے ابتر بناتے گئے ۔ آخر ترقی کی شاہراہ پر جو چڑھ گئے تھے ۔ اب اللہ سبحانُہُ و تعالٰی خود آ کر سب ٹھیک تو نہیں کرے گا ۔ ہم آپ نے ہی کرنا ہے مگر سب اس انتظار میں ہیں کہ کوئی دوسرا کرے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے اس جدید نظام سے بہت پہلے سکول کالج یونیورسٹی سے فراغت حاصل کر لی تھی

  2. آپ تو اس نظام سے بچ نکلے لیکن آنے والی نسل تو پھنس گئی ہے نا

  3. میرا خیال ہے کہ یہ داخلہ ٹیسٹ اسی لیے ھیں کہ پیچھے سے جو مختلف نظاموں سے پڑھتے ہوئے افراد آ رہے ھیں، ان کا موازنہ ہو سکے۔

    کوئی برائی نہیں ہے اس میں۔

    طالب علم کو تکلیف اس لیے ہے کہ ھڈ حرامی کی وجہ سے بار بار علم ٹیسٹ ہونا برا لگتا ہے۔

  4. جوانی پٹا صاحب یہی تو میں نے رونا رویا ہے کہ یہ لوگ وقت اور پیسہ ضائع کیوں کرواتے ہیں طلبا کا۔ ایک جیسا نظام تعلیم دیں اور علم کے شعبہ روز روز کے ناکام تجربات کرنے سے باز آئین۔ کوئی تعلیمی پالیسی بنائیں جو کم از کم دس سال تک کے لئے ہو۔

  5. […] ملک بھر میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے نام پر روز بروز نت نئی پالیسیاں لائی جاتی ہیں۔ انہی میں سے اعلٰی درجے کی تعلیم کے حصول کے لئے بورڈ و یونیورسٹی کے متوازی ایک نظام قائم کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعدداخلہ دیا جاتا تھا۔ اس کے متعلق تفصیلی مراسلہ اس ربط پر دیا گیا ہے۔ بورڈ و یونیورسٹی امتحانات کے بعد ٹیسٹ سیاپا […]

  6. […] گزشتہ سال ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کرنے کے بعد سوچا چلو ویلے ہی ہیں تو ایم فل ہی کر لیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی آگئی کہ اب این ٹی ایس NAT & GAT ٹیسٹ ۔۔۔کے بغیر بھی داخلہ مل سکتا ہے تو ارادہ اور مضبوط ہو گیا۔ کیونکہ زیادہ ٹیسٹ سسٹم کے میں بالکل بھی خلاف ہوں جیسا کہ آپ کو میرے اس بلاگ مراسلے سے اندازہ ہو سکتا ہے۔بورڈ و یونیورسٹی امتحانات کے بعد ٹیسٹ سیاپا […]