پاک گلیکسی

انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی خبریں

صفحہ اول » متفرق » گریویٹی لائٹ : کشش ثقل سے روشنی

گریویٹی لائٹ : کشش ثقل سے روشنی



مصنف: فخرنوید زمرہ: متفرق

دنیا میں انرجی یعنی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے باعث توانائی کے زخائر یعنی ایسی اشیا یا عناصر جن کی مدد سے توانائی حاصل کی جا سکے میں کمی وقوع پذیر ہو رہی ہے جس کی وجہ سے آنے والی نسلوں  کے مستقبل پر گہرا اثر پڑے گا۔ اب تک پٹرولیم مصنوعات کا سب سے زیادہ توانائی کے حصول کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے توانائی کے حصول کے زرائع بھی استعمال کرنا شروع کر دئیے ہیں جن  میں ایٹمی زرائع ، پانی ، سولر یعنی شمسی توانائی اور اسی طرح کے دیگر زرائع بھی مستعمل ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی اور سائنس نے جوں جوں ترقی کی اسی طرح توانائی کے حصول میں سستے اور آسان زرائع تلاش کئے گئے۔ ایسے ہی کشش ثقل کی مدد سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس کا کچھ ذکر یہاں ہم کریں گے۔

کشش ثقل کی مدد سے ایسی انرجی حاصل کی جا تی ہے جس کو بعد میں روشنی کی شکل میں حاصل کیا جا سکے۔

دنیا میں ابھی بھی کروڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں بجلی کی سہولت میسر نہیں ہے اور سورج کی روشنی کے بعد یعنی اندھیرا چھا جانے کے بعد انہیں متبادل زرائع سے روشنی حاصل کرنا پڑتی ہے۔ جن میں کیروسین آئل اور سولر انرجی پینل کی طلب بڑھ رہی ہے۔ کیروسین آئل کے استعمال سے جہاں ماحولیات پر اور انسانی زندگیاں متاثر ہو رہی ہین وہیں یہ ان لوگوں کے معاشی حالات پر بھی اثر انداز ہو رہیئ ہے۔ ایسے لوگ جو افریقہ اور تیسری دنیا کے لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں انہیں ایسے متبادل زرائع فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے وہ اندھیروں سے نکل سکیں اور ان کے معاشی و صحت کے حالات پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔

gravity light 01

ایک اندازے کے مطابق 780 ملین مرد و عورت کیروسین اور دوسرے زرائع توانائی کی وجہ سے جو دھواں اپنے جسم میں اتار رہے ہیں وہ تقریباً 2 ڈبیاں سگریٹ ہر روز پینے کے برابر ہے۔60 فی صد  بالغ خواتین جو پھیپڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو رہی ہیں انہوں نے کبھی سگریٹ یا تمباکو نوشی نہیں کی ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو غربت ذدہ علاقوں میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔صرف بھارت میں 2.5 ملین لوگ کیروسین لیمپ کے الٹ جانے سے ہر سال اپنی زندگیاں کھو بیٹھتے ہیں۔کیروسین کے استعمال کی وجہ سے ان کی آمدن کا 10 سے 20 فی صد ضائع چلا جاتا ہے۔

کیروسین کا استعمال جس کی مدد سے روشنی حاصل کی جاتی ہے ہمارے ماحول میں 244 ملیں ٹن کے قریب کاربن ڈائی آکسائیڈ ہمارے ماحول میں شامل کر رہا ہے۔

سولر انرجی بمقابلہ گریویٹی لائٹ

سولر انرجی کی مدد سے روشنی حاصل کرنے کے لئے پینلز اور بیٹریوں کے خرچ کے علاوہ سورج کی روشنی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ سورج کی روشنی تو مفت مل سکتی ہے لیکن سولر پینلز اور بیتریوں کا خرچ غریب آبادی کے لئے مایوسی کے اندھیرے  بھی لے آتی ہے۔ اس لئے گریویٹی لائٹ یعنی کشش ثقل کی مدد سے روشنی کا حصول سولر انرجی کے حصول کی نسبت کافی حد تک سستی ہے۔

gravity light 02

کشش ثقل کی مدد سے کیسے روشنی حاصل کی جا سکتی ہے؟

اوپر تصویر میں تمام اشیا آپ کو دکھائی گئی ہیں جس کی مدد سے کشش ثقل سے حاصل شدہ توانائی کو روشنی  میں بدلا جاتا ہے۔ جو تقریباً 3 سیکنڈ میں حاصل شدہ توانائی کو تیس منٹ تک کے لئے روشنی بنا سکتی ہے۔

مزید تفصیل جاننے کے لئے یہ ویڈیو دیکھیں۔

اگر آپ اس سلسلہ میں مزید رہنمائی یا تفصیل جاننا چاہتے ہیں تو آپ اس ربط پر کلک کریں۔

 

فخرنوید

قابلیت: ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن بلاگز: پاک گلیکسی اردو بلاگhttp://urdu.pakgalaxy.com ماس کمیونیکیشن انگلش بلاگ http://mass.pakgalaxy.com ای میل:fakhar.naveed@gmail.com

2 Responses so far.

  1. کافی سال پہلے ایک پاکستانی لڑکے نے اسی طرح کی ایک لائٹ بنائی تھی۔ جو شاید چوبیس گھنٹے چلتی تھی۔

  2. اس لائیٹ میں کوئی خاص نیا نہیں ہے صرف بیٹری کی جگہ کشش ثقل سے پیدا شدہ پوٹینشل توانائی کا استعمال کیا گیا ہے، یعنی جس طرح پرانے زمانے کی گھڑی کو چابی دی جاتی تھی اسی طرح ریت سے بھرے وزنی بیگ کو اوپر اٹھا دیا جاتا جو آہستہ آہستہ نیچے آتا رہتا ہے اور اس سے جڑا مکینکل نظام ایک جھوٹے سے جنریٹر کو جلا کر بجلی پیدا کرتا ہے جس سے یہ لائیٹ جلتی ہے۔ یہ لائیٹ درج ذیل فزکس کے سادہ سے فارمولے پر کام کرتی ہے
    PE=mgh